پٹنہ،3؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جنتادل راشٹروادی کا کہناہے کہ کانگریس مسلمانوں کیلئے زہرہلاہل ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی ،معاشی ، سماجی اور سیاسی بدحالی کولیکر سچرکمیٹی اوررنگناتھ مشراکمیشن کی تشکیل کرنے کے بعدبھی پارلیامنٹ میں ڈاکٹرمنموہن سنگھ کی قیادت والی کانگریس حکومت نے رپورٹ کوایوان میں نہ پیش کیااورنہ پاس کیا۔آج جب مسلمانوں کی شریعت اور اسلام پرسنگھ پریوارحملہ آور ہے اور نریندرمودی کی حکومت نے تین طلاق بل کو جبراًلوک سبھا میں پاس کرایاتواس کی مخالفت میں کھڑی ہونے کے بجائے کانگریس نے بھاجپا حکومت کی حمایت کردی۔جے ڈی آر کے قومی کنوینر اور جواں سال مسلم رہنمااشفاق رحمن کہتے ہیں کہ لوک سبھا میں کانگریس کی حمایت نہ ہوتی توتین طلاق بل کاباآسانی پاس ہوناممکن نہیں تھا۔لیکن کانگریس مسلمانوں کے ساتھ کھڑی کیوں رہتی! وہ تو اب بھاجپاکی طرزپرسخت ہندوتوکی راہ پر گامزن ہے۔ باوجوداس کے مسلمان اسے اپنی پارٹی مان رہے ہیں تویہ ان کا اپناذہنی فتورہے، کانگریس نے توگجرات انتخاب میں مسلم لیڈر ان کوحاشیہ پررکھ کرپیغام دے دیاکہ بھا جپاکی طرح اسے بھی مسلم لیڈرکی ضرورت نہیں ۔اب آپ کی مجبوری ہے کہ کانگریس کا دامن تھامے رہے یانہیں۔دراصل ،کانگریس سے زیادہ ہمارے قابل احترام علماء سیاسی مجرم ہیں کہ تین طلاق پر بھاجپاکے ساتھ کھڑاہونے کے بعدبھی مسلمانوں کوکانگریس کی طرف لے جانے کی کوشش میں اب بھی سرگرم ہیں۔اس وقت سب کانگریس کی ایجنٹی کررہے ہیں، مسلمانوں کی ترجمانی کوئی نہیں کررہا۔آسام کے ایک مولاناکوکانگریس نے وزیراعلیٰ کا امیدواربنانے سے نہ صرف انکار کردیابلکہ ان کی پارٹی سے اتحادبھی نہیں کیا۔نتیجتاًآسام میں بھاجپابرسراقتدارآگئی ۔ کانگریس کوبھاجپا منظورہے مگرمسلمان نہیں۔اب این آرسی کے تحت کروڑوں مسلمانوں کی شہریت چھین لی گئی ہے اورمولانا موصوف کچھ نہ کرسکے۔اس کا اثر بہار ۔بنگال پر بھی پڑنالازمی ہے۔اس کے بعد بھی آسامی مولاناتین طلاق پرکانگریس کے ساتھ ہی کھڑے نظرآرہے ہیں۔ مسلمانوں کی شہریت پرسب سے پہلے کانگریس نے ہی شک کااظہارکیا۔آج بھاجپا اس پر ہی عملی جامہ پہنارہی ہے۔دوسرے مولاناجوخوداعتراف کرتے ہیں کہ کانگریس نے ان کی زبان پرتالاجڑدیا۔مگرکانگریس کی تابعداری میں دن رات مصروف اورمشغول ہیں۔تین طلاق پردستخطی مہم میں فطرہ ۔زکوٰۃ کا کروڑوں روپیہ پھونک دیاگیا۔نتیجہ صفر نکلا یہ مہم کانگریس بیک گراؤنڈکے ایک مولانا نے بڑی شدت سے چلائی۔بہار کے ایک ادارہ کے اعلیٰ عہدیداربھی ہیں۔جب ادارہ کے عہدہ پرفائز ہوئے تھے تواس قدر ماحول بنایاگیاکہ جیسے ہندوستان کی سیاست ان کی قیادت میں ہل جائے گی۔آج جب انہیں سب سے زیادہ جارحانہ رخ اختیارکرناچاہئے تھاتونہ جانے وہ کہاں غائب ہیں۔دراصل ایک کانگریسی ہونے کے ناطے پارٹی کی مخالفت کرناشایدان کی ضمیراجازت نہیں دے رہاہو۔بھلے ہی ملت کے معاملہ پرضمیر فروشی یا ضمیرمردہ ہی کیوں نہ ہوجائے!شایدوہ آج بھی اس حکمت عملی مرتب کرنے میں جٹے ہوں گے کہ کیسے مسلمانوں کو کانگریس کی طرف پوری طرح سے ڈھکیلاجائے۔ سیاسی علماء کرام کانگریس کی ایجنٹی کی جگہ ملت کی ایجنٹی کئے ہوتے تو کانگریس کی اوقات نہیں تھی کہ تین طلاق بل کی حمایت میں ووٹ ڈالتی ۔ کانگریس تو یہ سمجھ رہی ہے کہ جب علماء ہی ان کے ساتھ کھڑے ہیں تو قوم کی کیا بساط ! اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ ملت خود متحد ہوں اور اپنی قیادت اوراپنی سیاست کاخاکہ مرتب کریں۔کئی ریاستوں میں مسلم قیادت کی پارٹی کام کررہی ہے اس کے ساتھ آئیں اور ہندوستان کاسیاست کارخ موڑیں اگر ایجنٹ ہی کرناہے تومسلم بھائی کیلئے کریں،اپنی قیادت کیلئے کریں،پوری امت مسلمہ کیلئے کریں۔